ورلڈکپ سیمی فائنل میں ٹنڈولکر کا ناٹ آؤٹ، بحث پھرچھڑگئی


ورلڈکپ دوہزارگیارہ کا سیمی فائنل میچ دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جانےوالےمیچز میں سے ایک ہے۔ موہالی کےمیدان پرروایتی حریف پاکستان اور بھارت کےدرمیان مقابلہ تھا۔ میچ میں بھارت کےلیجنڈری بیٹسمین سعیداجمل کو امپائر این گولڈ نے ایل بی ڈبلیو کی گیند پر آؤٹ قرار دیا جس پر ٹنڈولکر نے ڈی آر ایس کا استعمال کیا اور کافی دیر بعد ہاک آئی ٹیکنالوجی میں گیند وکٹوں کو چھوئے بغیرجاتی نظرآئی اور پھر ٹنڈولکر نے پچاسی رنزبناکر ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔
ڈی آر ایس کے اس فیصلے پر دنیا بھر میں تنقید ہوئی اور فیصلہ کو متنازع قرار دیاگیا۔ چند روز قبل سات سال بعد تیس مارچ دوہزار بیس کو جب دوبارہ ورلڈکپ سیمی فائنل کی جھلکیاں نشرکی گئیں تو تھرڈ امپائر کےفیصلے پر بحث پھر سے چھڑ گئی ہے۔ سعیداجمل اور سابق بھارتی کھلاڑیوں سمیت دنیا بھر میں اس فیصلے کو اب بھی متنازع قرار دیا جاتا ہے۔

سعیداجمل

سعیداجمل کا کہناہےکہ سیمی فائنل میں کرائی گئی میری وہ گیند دنیا بھر میں ہمیشہ یاد رکھی جائےگی۔ اس بارے میں پہلے بھی کئی بار بحث ہوچکی ہے۔ فیلڈ امپائر این گولڈ نے جب ٹنڈولکر کو آؤٹ قرار دیا تو مجھے یقین تھا کہ ہمیں ٹنڈولکر کی وکٹ مل گئی ہے۔ کیونکہ ری پلے میں بھی گیند صرف وکٹوں پر ہٹ کرنا تھا۔ مجھے یاد ہے ٹنڈولکر جب نان اسٹرائیک پر کھڑے گوتھم گمبھیر سے مشورہ کررہےتھے تو گمبھیر نے انہیں یہی کہاتھا کہ آؤٹ لگ رہا ہے لیکن ٹنڈولکر نےکہاکہ موقع لے کر دیکھ لیتے ہیں۔ ریویو کےفیصلے پر سب ہی حیران تھے۔ میں آج بھی وہ گیند جب دوبارہ دیکھتا ہوں تو میں سوفیصد یقین کےساتھ کہ سکتا ہوں کہ وہ آؤٹ تھا، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ میں نے جو گیند کرائی تھی وہ اسٹریٹ بال تھی لیکن ری پلے میں گیند ٹرن ہوتی دیکھی گئی۔

ثقلین مشتاق

میرے خیال وہ بالکل صاف آؤٹ تھا۔ سچن ٹنڈولکر فرنٹ فٹ پر ضرورتھے لیکن انہوں نےپاؤں زیادہ باہر نہیں نکالاتھا۔ اگر آپ گیند کی ٹریجیکٹری دیکھیں تو سعیداجمل نے وہ گیند تیز کرائی تھی۔ سعیداجمل کا خود کاکہناہےکہ انہوں نے وہ گیند ٹرن نہیں کرائی تھی، گیند وکٹوں کےمڈل کےسامنے پیڈ پرلگی اور وہ وکٹوں پر ضرور لگتی۔ میرے خیال سے وہاں پر ٹیکنالوجی میں غلطی ہوئی۔

آکاش چوپڑا

سابق بھارتی کرکٹر آکاش چوپڑا کاکہناہے کہ انہوں نے جب وہ گیند دیکھی تو انہیں اندازہ تھا کہ گیند لیگ اسٹمپ پر ضرور لگے گی۔ وہ ایسی گیند نہیں تھی کہ اتنی زیادہ ٹرن ہوکہ وکٹوں کو ہی مس کرجائے۔ اور ظاہر ہے گیند میں اتنا باؤنس بھی نہیں تھاکہ گیند وکٹوں کےاوپر سے چلی جائے۔ لیکن ریویو میں گیند کا وکٹوں کو نہ چھونا بہت ہی عجیب تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ ایک غلطی تھی لیکن ایسی غلطی جو دوبارہ واپس نہیں لی جاسکتی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈی آر ایس فول پروف نہیں ہے۔

سنجے منجریکر
بھارتی کمنٹیٹر سنجے منجریکر کا کہناہےکہ وہ وقت ڈی آر ایس نیا نیا آیا تھا، یہ ٹیکنالوجی سب کےلئے ہی نئی تھی۔ تو ہمیں اندازہ نہیں تھاکہ گیند وکٹوں کو لگے گی یا نہیں۔ آج اگر وہ ری پلے دیکھیں تو بحیثیت کمنٹیٹر میں یہی کہوں گا کہ گیند وکٹوں کو نہیں لگتی۔ کیونکہ اگر ہم یہ دیکھیں کہ گیند کہاں پچ ہوئی تو پیڈ پر کہاں لگی تو آپکو اندازہ ہوگا کہ گیند ٹرن ہورہی تھی۔ میرے خیال سے اس فیصلہ میں کچھ بھی متنازع نہیں تھا۔






More Cricket News

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکےانعقاد کےلئےبڑی تجویز سامنےآگئی

یووراج سنگھ مشکل میں پھنس گئے، مقدمہ درج

پی سی بی کا دہرا معیار

شعیب اختر کا جوابی باؤنسر

کرکٹ کی دنیا سے بڑی خبر آگئی

کرس گیل اور ڈیرن سیمی سخت غصہ میں آگئے