میں کبھی مصباح الحق کا مداح تھا!!!!!

تحریر: احمد بلال


میں کبھی مصباح الحق کا مداح تھا!!!!!
مجھے کرکٹ سے اتنا لگاؤ تھا کہ صحافی بننے کے لیے جامعہ پنجاب کے ادارہ علوم ابلاغیات میں داخلہ لیا۔ دو سالہ ماسٹرز پروگرام کی تعلیم مکمل ہوئی تو ایک نجی چینل میں نوکری لگ چکی لیکن اس نوکری کا کرکٹ سے دور دور تک تعلق نہیں تھا۔ پھر ایک دن دفتر میں بیٹھے ایک دوست کا فون آیا اور میں ایک کرکٹ کمپنی کا حصہ بن گیا۔
آپ کو تھوڑا پیچھے لے کر چلتا ہوں جب میرے لڑک پن کی عمر تھی۔ تعلیم سے کچھ زیادہ لگاؤ نہیں تھا، سکول سے واپس آ کر سارے دوست روزانہ شام کو گراؤنڈ میں کرکٹ کا میلہ لگاتے اور خوب پسینہ بہاتے۔
ساؤتھ افریقہ میں 2007ء میں ہونے والا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی وہ پہلا ایونٹ تھا جو میں نے اپنے ہوش و حواس میں دیکھا۔ اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں پاکستان کو روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں شکست ہوئی تو دل چھلنی ہو گیا۔
اس فائنل معرکے میں پاکستان ٹیم کے موجودہ چیف سلیکٹر و ہیڈکوچ مصباح الحق واحد کھلاڑی تھے جنہوں نے فتح کی امید دلائی لیکن ایک غلط شاٹ کی وجہ سے پاکستان وہ ٹائٹل نہیں جیت سکا تھا۔
بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد مصباح الحق کو ہر گلی چوراہے میں گالیاں پڑ رہی تھیں لیکن میں ہر جگہ ان کا دفاع کر رہا تھا کیونکہ اس میچ میں اگر وہ بھی ناکام ہو جاتے تو شاید میچ آخری اوور تک آتا ہی نہیں۔
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2007ء کے فائنل میں مصباح الحق کی دلیرانہ اننگز کے بعد میں ان کا مداح ہو گیا اور انہوں نے ریٹائرمنٹ تک جتنی کرکٹ کھیلی میں ان کے ہر فیصلے کا دفاع کرتا۔
مصباح الحق پاکستان کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان بنے۔ مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتیں۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے انگلینڈ کو لارڈز کے تاریخی میدان پر بھی شکست سے دوچار کیا۔
مصباح الحق نے بطور کپتان بھارت کو ان کے گھر میں ون ڈے سیریز ہرائی۔ ان کی قیادت میں پاکستان ایشیاء کی پہلی ٹیم بنی جس نے ساؤتھ افریقہ کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر ون ڈے سیریز میں شکست دی ۔ مصباح الحق نے پاکستان کو دوسری مرتبہ ایشیاء کپ کا ٹائٹل جتوایا۔
انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ان کے ہوم گراؤنڈ پر پاکستان کو پہلی مرتبہ ٹیسٹ سیریز جتوائی اور کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا۔ اس سے قبل وہ 2012ء میں ٹی ٹوئنٹی اور ورلڈکپ 2015ء کے بعد ون ڈے کرکٹ سے الگ ہو چکے تھے۔
کرکٹ سے الگ ہونے کے بعد مصباح الحق نے بچوں کے لیے دل کے اسپتال کا منصوبہ شروع کیا تو انہوں نے ایک بار پھر میرا دل جیت لیا۔ اسی دوران مصباح الحق کو قومی انڈر-19 ٹیم کی کوچنگ کی پیشکش ہوئی جو انہوں نے ٹھکرا دی۔
میڈیا میں خبریں رپورٹ ہوئیں کہ مصباح الحق نے یہ پیشکش اس لیے قبول نہیں کی کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) انہیں کم معاوضہ دے رہا تھا لیکن انہوں نے ان خبروں کی تردید کی اور کہا کہ وہ اپنے اسپتال کے منصوبے میں مصروف ہیں۔
اس کے بعد کچھ عرصہ قبل وہ پاکستان کرکٹ کی طاقتور ترین شخصیت بن کر ابھرے۔ وہ کرکٹ کمیٹی کے رکن بنے، ہیڈکوچ کی نوکری کے ساتھ چیف سلیکٹر کا عہدہ بھی لے اڑے۔ یہ وہ وقت تھا جب میرا دل مصباح الحق سے کھٹا ہو گیا۔
جونیئر کھلاڑیوں کی کوچنگ کو ٹھکرانے والے مصباح الحق نے چاروں انگلیاں گھی میں ڈال لیں۔ مجھے یقین ہو گیا کہ مصباح نے جونیئر ٹیم کی کوچنگ سے اس لیے انکار کیا کیونکہ اس نوکری کا معاوضہ کم تھا۔
بطور ہیڈکوچ و چیف سلیکٹر سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز ان کا پہلا امتحان تھا۔ ون ڈے سیریز میں کامیابی حاصل کرنے والی قومی ٹیم ٹی ٹوئنٹی سیریز میں کلین سویپ شکست سے دوچار ہوئی۔
مصباح الحق نے ایک ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست پر سرفراز احمد کو قیادت سے ہٹانے کی سفارش کی جو چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے منظور کی۔ سرفراز احمد کو ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سے ہٹانے کا فیصلہ سب کے لیے قابل قبول تھا لیکن ان سے ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی کمان واپس لینا بہت بڑی ناانصافی تھی۔
سرفراز احمد نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء کے بعد اس ٹیم کی قیادت سنبھالتے ہوئے پاکستان کو نمبرون ٹیم بنایا۔ مصباح الحق نے انہیں قیادت سے ہٹانے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انفرادی کارکردگی بہت مایوس کن ہے اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا۔
لیکن مصباح الحق کی یہ منطق فخر زمان اور آصف علی جیسے کھلاڑیوں پر لاگو نہیں ہوئی جن کی کارکردگی سرفراز احمد سے بھی بدتر تھی۔ مجھے مصباح الحق کے اس فیصلے سے ذاتی پسند اور ناپسند کی بُو آئی۔
مصباح الحق نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2020ء سے پہلے پاکستان کی نمبرون ٹیم کو تباہی کے دیہانے پر پہنچا دیا ہے۔ سرفراز احمد کے ساتھ ساتھ شعیب ملک اور محمد حفیظ کو بھی ٹیم سے الگ کر دیا گیا ہے۔
قومی ٹیم اس وقت دورہ آسٹریلیا پر موجود ہے جہاں پہلے میچ میں تو بارش نے بابر الیون کو شکست سے بچا لیا لیکن دوسرے میچ میں قومی ٹیم شکست سے بچ نہیں سکی اور تیسرے میچ میں بھی شاہین شکست کی خفت سے دوچار ہوئے۔
مصباح الحق کی کوچنگ میں پاکستان کی ٹیم چھ ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل چکی ہے اور ٹی ٹوئنٹی کی نمبرون ٹیم کو ایک بھی کامیابی نہیں ملی کیونکہ اس ٹیم کو یہ مقام دلانے والے سرفراز احمد، محمد حفیظ اور شعیب ملک ٹیم سے باہر ہیں۔
بڑے ایونٹس کے لیے ٹیمیں دو، تین سال قبل تیاریاں شروع کر دیتی ہیں اور پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم بالکل درست سمت میں جا رہی تھی لیکن ٹی ٹوئنٹی ٹیم مصباح الحق کی انا کی بھینٹ چڑھ گئی۔
ابھی بھی وقت ہے، دیر نہیں ہوئی، چیئرمین پی سی بی احسان مانی مداخلت کرتے ہوئے سرفراز احمد، محمد حفیظ اور شعیب ملک کو ٹیم میں واپس لائیں تا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2020 میں پاکستان کی تجربہ کار میدان میں اتر سکے۔
مصباح الحق کے کے تبدیلی برائے تبدیلی کے فیصلوں پر میں یہ بات کہنے پر مجبور ہوں کہ میں کبھی ان کا مداح تھا!!!!!ا

More Cricket News

آسٹریلیا کے سابق کوچ نے پاکستان ٹیم کو جیت کا منترا بتادیا

نئی ٹی ٹین لیگ تنازع کا شکار

بنگلہ دیش پریمیئرلیگ میں کون کونسے پاکستانی کھلاڑی کھیلیں گے ؟؟

ٹی ٹین لیگ میں بنگال ٹائیگرز نے کمال کردیا

پی سی بی کا انوکھا فٹنس کیمپ ۔۔۔ !

دورہ آسٹریلیا پر اس بار ایسا کیا ہوا جو پہلے کبھی نہیں ہوا ۔۔۔ !