سرفرازاحمد ، تیرے جانے کےبعد تیری یاد آئی ۔۔۔ !

تحریر: رضاکلیم

الٹی ہوگئیں سب تدبیریں۔
کچھ نہ مصباح کےتجربوں نے کام کیا۔
ٹی ٹوئنٹی کی نمبر ون ٹیم کو شکستوں کےڈگر پر ڈال دیا۔۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی آنکھ کےتارےمصباح الحق کو ورلڈکپ کےبعد قومی کرکٹ ٹیم کا مائی باپ بنادیا گیا۔ تمام اصولوں کےبالائے طاق رکھ کر ہیڈکوچ اور چیف سلیکٹر کے دوہرے عہدوں پر مصباح الحق کی پاکستان کرکٹ ٹیم میں انٹری ہوئی۔ پاکستان کی سیاست میں یوٹرن کےچرچوں سے مصباح الحق بھی متاثرنظرآئے۔ بھولے بھٹکے کھلاڑی دوبارہ پاکستان ٹیم کی ریڈار آئےتو جیت کا کنکشن پاکستان ٹیم سے ٹوٹ گیا۔
کرکٹ کےمختصرترین فارمیٹ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کو نمبر ون بنانےوالے سرفرازاحمد بھی مصباح الحق کےتجربات کی بھینٹ چڑھ گئے۔ وہ سرفراز جس نے انگلینڈ کو انگلینڈ میں ہرایا۔ وہ سرفراز جس نے نیوزی لینڈ کی سرزمین پر بھی پاکستان کو جیت سے سرفراز کیا۔ وہ سرفراز جس کے سامنے آسٹریلیا ۔ ورلڈچیمپیئن ویسٹ انڈیز ۔ زمبابوے ۔ سری لنکا کوئی نہ ٹک پایا۔ وہ سرفراز جس نے مسلسل گیارہ ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتنے کا ورلڈریکارڈ بنایا۔ وہ سرفراز جس نے اپنی بیٹنگ کی پرواہ کئے بغیر نوجوانوں کو اوپر کے نمبروں پر موقع دیا۔ لیکن پہلے ٹیم کمبی نیشن خراب کرکے کپتان کے اختیارات کو دیوار سے لگایا گیا۔ اور پھر دو سال سے زائد عرصے تک ٹیم کو نمبر ون پررکھنے والے سرفرازاحمد مصباح الحق کےدل سے ایسےاترے کہ کپتانی تو دور کی بات ٹیم کے دروازے بھی کامیاب ترین کپتان پر بند کردئے گئے۔ دنیا کی تاریخ میں میں پہلی بار ایسا ہوا کہ دنیا کی نمبر ون ٹیم کےکپتان کو صرف ایک سیریز میں شکست پر سائیڈلائن کیاگیا۔ لیکن سرفراز نے کسی سے کچھ نہ کہا اور نمبر ون ٹیم کا کامیاب کپتان خاموشی سے ایک طرف ہوگیا اور مستقبل کا حال قسمت پر چھوڑ دیا۔ پھر قسمت نے بھی فوراً ہی پلٹ کر منہ توڑ جواب دیا۔
آسٹریلیا کےمشکل دورے پر بھی قومی ٹیم کےساتھ مصباح الحق کےتجربات جاری رہے۔ وہی پرانے کھلاڑی ٹیم میں آئےاور وہی شکست کےساتھ میدان سےلوٹے۔ آسٹریلیا کےخلاف سیریز میں بھی کلین سوئپ شکست مقدر تھی۔ لیکن پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بارش ٹیم کی مدد کو آگئی اور یقینی شکست سے پاکستان کو بچالےگئی۔ دیگر دو میچز پاکستانی ٹیم ہاری اور سیریز دو صفر سے آسٹریلیا کےنام رہی۔ پوری سیریز میں بیٹنگ لائن بےبسی کی تصویر بنی رہی۔ فیلڈ پربھی کھلاڑیوں میں کوئی جوش و جذبہ نظر نہ آیا وہ جو کپتان سرفراز اپنی عمدہ بیٹنگ نہ ہونے کےباوجود ٹیم میں برقرار رکھتا۔ سرفراز کی جگہ ٹیم میں شامل ہونےوالے محمدرضوان کی بیٹنگ نے بھی سرفراز کےمتبادل کا پول کھول دیا۔ اور بلاآخر ہرکوئی کہنے پر مجبور ہوگیا۔ کہ سرفرازاحمد۔۔ وہ ٹیم ہی نہیں تم کپتان بھی نمبر ون تھے۔ آہ اب کہ تمہارے جانے کےبعد تمہاری یاد آئی۔۔۔

More Cricket News

آسٹریلیا کے سابق کوچ نے پاکستان ٹیم کو جیت کا منترا بتادیا

نئی ٹی ٹین لیگ تنازع کا شکار

بنگلہ دیش پریمیئرلیگ میں کون کونسے پاکستانی کھلاڑی کھیلیں گے ؟؟

ٹی ٹین لیگ میں بنگال ٹائیگرز نے کمال کردیا

پی سی بی کا انوکھا فٹنس کیمپ ۔۔۔ !

دورہ آسٹریلیا پر اس بار ایسا کیا ہوا جو پہلے کبھی نہیں ہوا ۔۔۔ !