نجم سیٹھی تیری یاد آئی کرکٹ سے جانے کے بعد



پاکستان کی سیاست میں بہت کھیل اور کھیل خصوصا کرکٹ میں بہت سیاست آگئی ہے

پاکستان کرکٹ میں سیاست نئی بات نہیں۔ پی سی بی کا پیٹرن ان چیف وزیراعظم ہوتا ہے لہذا ہر حکومت کے جاتے ہی چیرمین پی سی بی کی چھٹی اور نئی حکومت آتے ہی نیا چیرمین پی سی بی اچانک نمودار ہوجاتا ہے۔

نواز حکومت کے مدت پوری پوری ہونے اور الیکشن میں ناکامی پر بھی یہی ہوا۔ پاکستان میں کرکٹ کی بحالی اور پاکستان سپر لیگ جیسی ورلڈ کلاس برانڈ کی بنیاد رکھنے والے نجم سیٹھی بھی آنیوالے وزیر اعظم عمران خان نے شدید سیاسی اختلافات کے باعث مستعفی ہونے پر مجبور ہوگئے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ نجم سیٹھی کی کرکٹ بورڈ میں آمد سیاسی بنیادوں پر ہوئی لیکن اس بات میں بھی کوئی دو آرا نہیں کہ شہریار خان اور نجم سیٹھی نے پہلے مل کر اور پھر نجم سیٹھی نے اکیلے تنہائی کے شکار پاکستان کرکٹ کو نئی زندگی دی ۔پاکستان کے سونے میدانوں کو آباد کیا ۔شہریار خان نے زمبابوے کرکٹ ٹیم کو پاکستان بلاکر امید کی پہلی کرن دلائی تو نجم سیٹھی نے پاکستان سپر لیگ کی داغ بیل ڈال کر اصل معنوں میں پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی مکمل بحالی کی وہ مضبوط بنیاد ڈالی جس کے بل بوتے پر پہلے پی ایس ایل ٹو کا ایک فائنل پر پی ایس ایل تھری کے چار میچز اور پھر پی ایس ایل فور کے آٹھ میچز کے بعد پی ایس ایل فائیو کے پورے سیزن کے انعقاد کی راہ ہموار ہوئی ۔ اس کے ساتھ ہی نجم سیٹھی اور ان کی ٹیم کی کوششوں سے ہونیوالی پاکستان سپر لیگ کی بدولت پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں شرجیل خان فخرزمان حسن علی شاداب خان رومان رئیس سمیت کئی ایسے کرکٹرز ملے جن کی کارکردگی سے پاکستان دنیا کی نمبرون ٹیم بنی ۔سرفراز احمد کی قیادت میں ٹیم چیمینز ٹرافی بھی جیتی ۔ایسے وقت میں جب پاکستان کرکٹ درست اقدام میں آگے بڑھ رہی تھی حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی چیرمین پی سی بی نجم سیٹھی کو استعفی دیکر گھر جانا پڑا۔ نجم سیٹھی کام جاری رکھنا چاہتے تھےلیکن نئی حکومت سے اختلافات کے بعد استعفی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

نجم سیٹھی کے جانے کےبعد جہاں پاکستان سپر لیگ کے معاملات ڈانواڈول ہوئے وہی پاکستان ٹیم بھی گزرتے وقت کے ساتھ ناکامی کی دلدل میں پھنستی ہی چلی گئی۔

سیاسی بنیادوں پر پی سی بی میں سیاسی زور پر تبدیلی کے بعد نجم سیٹھی کے مقرر کردہ کوچ مکی آرتھر اور سرفراز احمد کو ون ڈے اور ٹیسٹ کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی کے اس فارمیٹ سے دودھ سے مکھی کی نکال باہر کیا گیا جہاں پاکستان اب تک نمبرون پوِزیشن پر موجود ہے

نئے چیرمین پی سی بی اور چیف ایگزیکٹو نے وکٹ پر رک کر سوچ سمجھ کر کھیلنے کے بجائے کریز پر آتے ہی اندھا دھند شاٹس کھیل کر اچھی خاصی ٹیم کا وہ حشر بناڈالا کہ سب کو ایک بار پھر نجم سیٹھی کی یاد ستانے لگی ہے

کوچنگ کے ایک دن سے کے بھی تجربے سے محروم مصباح الحق کو جہاں ہیڈکوچ مقرر کیا گیا وہیں چیف سلیکٹر اور بیٹنگ کوچ کی زمہ دادیاں یوں سونپی گئی جیسے اس ملک میں کرکٹ کی دیگر زمہ داریاں۔سنبھالنے والا موجود ہی نہ ہو۔ اس پر ستم یہ کہ سرفراز کو گھر بھیجنے کے بعد ماضی کے ناکام کپتان اظہر علی کو ٹیسٹ اور نوجوان بابر اعظم کو ٹی ٹوئنٹی کپتان بناکر ٹیم کی رہی سہی شکل ہی بگاڑ دی۔

نجم سیٹھی جن کی کوششوں سےپاکستان میں کرکٹ کی بحالی اور ٹیم کی کارکردگی میں بہتری اور ٹہراو آنے لگا تھا اب ان کے جانے کے بعد تنکا تنکا بکھرچکی۔ سری لنکا سے اپنے گھر میں ٹی ٹوئنٹی کی شکست کے بعد دورہ آسٹریلیا میں کینگروز نے جو درگت بنائی اس کے بعد اب کرکٹ فینز یہ سوچنے اور کہنے پر مجبور ہیں کہ

نجم سیٹھی تیری یاد آئی کرکٹ سے جانے کے بعد

پاکستان کرکٹ کا اللہ ہی حافظ

More Cricket News

Srilanka on Pakistani Soil , a look into the Past

پاک سری لنکا ٹیسٹ سیریز اور آئی سی سی رینکنگ

بنگلہ دیش ٹیم کے دورہ پاکستان کا ممکنہ شیڈول اور وینیوز کے نام سامنے آگئے

ویمنز سیریز: انگلینڈ نے پاکستان کو 75 رنز سے شکست دے دی

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ٹیسٹ سیریز کے لیے کمنٹری پینل اور براڈ کاسٹ پلان تیار

قومی اسٹار کرکٹرز ،راولپنڈی ٹیسٹ کے آغاز کے منتظر